May 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/farmington-realestate.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
ميار الببلاوي

مصر کی دینی درس گاہ جامعہ الازھر سے منسلک ایک مذہبی عالم کی طرف سے ’زنا‘ کے الزام پر معروف اداکارہ اور خاتون صحافی میار الببلاوی لائیو ’ٹک ٹاک‘ کی لائیو اسٹریمنگ کے دوران بے ہوش کر گر پڑیں۔

صحافیہ بسمہ وہبہ کے ساتھ انٹرویو میں میار نے اپنی علیحدگی اور شوہر کے پاس 11 بار واپس آنے کے حوالے سے بیانات کے بارے میں بات کی تھی جس پر معروف مذہبی مبلغ محمد ابوبکر کے بیانات سامنے آئے۔

الببلاوی ٹک ٹاک پر لائیو سٹریمنگ کے دوران روتے ہوئے سامنے آئی اور کہا اس نے اپنے بارے میں کہی گئی ہر بات کی پرواہ نہیں کی لیکن بات جب عزت اور غیرت کی تمام حدود سے آگے بڑھ گئی تو یہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک معروف عالم نے ان پر ’زنا‘ کا الزام عاید کیا جسے وہ برداشت نہیں کرسکتی۔

میار نے مزید کہا کہ وہ اس الزام سے حیران رہ گئی ہیں کیونکہ وہ دینی تعلیمات سے خود بھی بہ خوبی واقف ہیں کیونکہ انہوں نے تقابلی فقہ میں ماسٹرز اور اسلامی علوم اور اسلامی ثقافت میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

میار نے انکشاف کیا کہ ان الزامات کی وجہ سے وہ ایک بڑے بحران کا سامنا کر رہی ہیں، کیونکہ ان کے گھر والوں نے اس کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔ ساتھ ہی اس کا بڑا بیٹا بھی اس سے دور ہوگیا ہے۔ وہ اس وجہ سے اس سے بات نہیں کرتا۔

اداکارہ نے مزید کہا کہ اس کے ماموں نے اسے انتہائی غصے کی حالت میں بلایا اور پوچھاکہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ اس کے بارے میں حقیقت کو واضح کریں اور اس بحران کو حل کریں۔

دوسری طرف مصری عالم دین نے کہا ہے کہ اسلامی تعلیمات کی رو سے طلاق صرف تین تک ہیں۔ جب کہ کسی خاتون کا گیارہ بار شوہر سے طلاق اور رجوع کا کوئی ثبوت نہیں۔ تیسری بار دی گئی طلاق حتمی ہے جس کے بعد رجوع کا کوئی راستہ نہیں بچتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *