May 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/farmington-realestate.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
امریکی صدر کی نومبر میں رہا ہونے والے یرغمالی بچوں کے ساتھ تصویر

اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بارے میں مصری اسرائیل مذاکرات میں مثبت اشارے سامنے آرہے ہیں۔ اسی دوران امریکی صدر جو بائیڈن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب تک حماس اپنے زیر حراست اسرائیلی یرغمالیوں کو ان کے اہل خانہ کے حوالے نہیں کر دیتی۔

امریکی صدر نے ’’ ایکس‘‘ پر دیگر ایک بچی کو بانہوں میں پکڑے ہوئے اپنی ایک تصویر شیئر کی۔ تصویر میں ان کے ساتھ دیگر بچے بھی ہیں۔ تصویر کے ساتھ انہوں نے لکھا “میں اس وقت تک آرام نہیں کروں گا جب تک کہ ابیگیل کی طرح حماس کے قید میں موجود یرغمالی اپنے پیاروں کی بانہوں میں نہیں آجاتا۔

اس سے قبل “X” پر بائیڈن کے اکاؤنٹ نے بچی ابیگیل ایڈن کے ساتھ ان کی ایک تصویر شائع کی تھی۔ جس میں ایک تبصرہ بھی شامل تھا۔ تبصرے میں کہا گیا تھا کہ پچھلے سال ہم ایک 4 سالہ بچی ابیگیل کی رہائی کو محفوظ بنانے میں کامیاب ہوئے جسے حماس کی طرف سے حراست میں لیا گیا تھا۔ یہ حیرت انگیز ہے اور صدمے سے صحت یاب ہو رہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کل ہم نے جو وقت اکٹھے گزارا وہ باقی تمام قیدیوں کی رہائی کو محفوظ بنانے کی ہماری ذمہ داری کی یاد دہانی بھی کرا رہا ہے۔

بچی ابیگیل ایڈن کے علاوہ ہی امریکی اور اسرائیل کی دوہری شہریت رکھنے والے دیگر بچے بھی امریکی صدر کے پاس موجود ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جنہیں حماس نے سات اکتوبر کو یرغمال بنایا تھا۔ ابیگیل ایڈن وہ پہلی بچی تھی جسے عارضی جنگ بندی معاہدے کے تحت حماس نے رہا کیا تھا۔

امریکیوں کی حفاظت اولین ترجیح

پریس بیانات میں بائیڈن نے کہا کہ صدر کے طور پر میری دنیا بھر میں یرغمال بنائے گئے امریکی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے سے زیادہ کوئی ترجیح نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا یہی چیز ہے جس نے مجھے اور قومی سلامتی کے امور سے وابستہ میری ٹیم کو حماس کے حملے کے شروع کے لمحات سے ہی علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادہ کیا تھا۔ اس کا مقصد اپنے شہریوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں کرنا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کسی بھی معاہدے کی صورت میں دیگر امریکی قیدیوں کی ان کے اہل خانہ کو واپسی کی ضمانت دی جائے گی۔ میں ان سب کی رہائی تک کام نہیں روکوں گا۔

20 سے 40 یرغمالیوں کی رہائی

امریکی صدر کے یہ بیانات ہفتے کے روز قاہرہ نیوز چینل کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ مصر نے حماس کو غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے بدلے 20 سے 40 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ امکان ہے کہ کچھ تحفظات کے باوجود غزہ میں حماس اور اسرائیلی فریق کے درمیان آئندہ چند روز میں کوئی معاہدہ طے پا جائے گا

تجاویز لینے کے لیے تیار

حماس نے کہا کہ وہ کسی بھی ایسی تجویز کو سننے کے لیے تیار ہیں جس میں جارحیت کا حتمی خاتمہ اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کا انخلا شامل ہو۔ یاد رہے تقریباً 129 اسرائیلی قیدی اب بھی محاصرہ کی گئی غزہ کی پٹی کے اندر یرغمال ہیں۔ اسرائیلی حکام کے اندازوں کے مطابق ان میں سے بھی 34 یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔ 24 سے 30 نومبر تک سات روزہ عارضی جنگ بندی کے دوران حماس نے 100 یرغمالی رہا کردیے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *