May 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/farmington-realestate.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

مغربی انٹیلی جنس ادارے کے مطابق پچھلے سال کے دوران اس نے کم از کم دہشت گردی کے دس واقعات کو ہونے سے روک دیا ہے۔ یہ واقعات پورے یورپ میں مختلف مقامات پر کیے جانے کا مبینہ منصوبہ تھا۔

رپورٹ کے مطابق پچھلے سال کے ان ممکنہ مبینہ خطروں کا دورانیہ سات اکتوبر 2023 کی جنگ کے بعد بطور خاص رہا۔ اور حماس سے یہ خطرہ رہا کہ وہ بعض جگہوں پر کارروائی کر سکتی ہے۔ یہ دعوی ہالینڈ کے انٹیلی جنس ادارے ‘ اے وی آئی ڈی ‘ نے منگل کے روز کیا ہے۔

انٹیلی جنس ادارے کے مطابق ان روکے گئے واقعات میں چاقو مارنے کے ممکنہ کارروائیوں کے منصوبے بھی شامل تھے ۔ ان میں اچانک اور عام افراد کو چاقو مارنے کے کوشش کے علاوہ متعین موقع وغیرہ پر کارروائیاں بھی شامل ہو سکتی تھیں۔

انٹیلی جنس ادارے نے یہ انکشاف اپنی سالانہ رپورٹ میں کیا ہے.

سویڈن نے اگست میں اپنے دہشت گردی کے الرٹ کو دوسرے اعلیٰ ترین درجے پر پہنچا دیا، ملک میں قرآن کو جلانے اور نشانہ بنانے والی دیگر کارروائیوں کے بعد مسلمانوں میں غم و غصہ پیدا ہوا اور انتہا پسندوں کی جانب سے دھمکیوں کو جنم دیا۔

اہم بات ہے کہ اس رپورٹ میں قران پاک کو نذر آتش کرنے کے واقعے کو انتہا پسندی سے باکل تعبیر نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن اس پر غم و غصے کو دہشت گردی کے خطرے کے ذمرے میں ڈال دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں، دو سویڈش فٹ بال شائقین کو برسلز میں مبینہ طور پر ایک شخص نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس نے خود کو داعش دہشت گرد گروپ کا رکن بتایا تھا۔

اکتوبر میں بھی، ایک 20 سالہ شخص نے شمالی فرانس کے شہر اراس کے ایک اسکول پر حملے میں ایک استاد کو چاقو مار کر ہلاک اور دو دیگر افراد کو شدید زخمی کر دیا تھا، جس کو صدر ایمانوئل میکروں نے وحشیانہ اسلامی دہشت گردی قرار دے کر مذمت کی تھی۔

غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کو یورپ میں دہشت گردی کا خطرہ بڑھنے سے جوڑا گیا ہے۔ اسرائیل نے اس جنگ میں اب تک 34,000 سے زائد فلسطینی ہلاک کیے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے حکام کے مطابق ابھی ہزاروں مزید افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جن کی لاشیں تک نہیں نکالی جا سکی ہیں۔

ہالینڈ کے انٹیلی جنس ادارے نے 2019 کے بعد پہلی بار اپنے خطرے کی سطح کو زیادہ شدت سے محسوس کیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *