May 24, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/farmington-realestate.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

’’شام میں ایرانی قونصل خانہ پر اسرائیلی حملے کا جو بھی جواب ضروری ہوا ، دیا جائے گا‘‘

حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ نے کہا ہے کہ دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی حملے میں شام کو نہیں بلکہ ایرانی علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کا یہ بیان سامنے آنے ہے جس میں انہوں نے اسرائیل کو دمشق میں شامی قونصل خانے پر حملے کا ضروری جواب دینے کا عزم دہرایا ہے۔

امریکہ ذمہ دار ہے

حسین امیر نے مزید کہا کہ اسرائیل نے دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر بمباری کر کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی۔ قونصل خانے پر بمباری کا ذمہ دار امریکہ بھی ہے۔ دریں اثنا شام کے وزیر خارجہ فیصل المقداد نے دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیل کی بمباری کو “خطرناک سرکشی” قرار دیا اور کہا کہا کہ اسرائیل نے تمام اقدار کی خلاف ورزی کی ہے۔

نیا ہیڈکوارٹرز

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے شامی ہم منصب کے ساتھ دمشق میں ایرانی سفارت خانے کے قونصلر سیکشن کے لیے ایک نئی عمارت کا افتتاح کیا۔ یہ افتتاح دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیل سے منسوب فضائی حملے کے ایک ہفتے بعد کیا گیا۔ یہ نیا ہیڈکوارٹرز پرانے ہیڈ کوارٹرز سے درجنوں میٹر کے فاصلے پر ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حسین امیر پیر کی صبح دمشق کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر شامی حکام سے بات چیت کے لیے پہنچے۔ انہوں نے اپنے ہم منصب فیصل المقداد سے ملاقات کی اور شام کے صدر بشار الاسد سے بھی ملاقات کی۔

یاد رہے ایران دمشق میں اپنے قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کے بعد بارہا اس کا جواب دینے کے عزم کا اظہار کر چکا ہے۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 16 ہو گئی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع گیلنٹ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایران کے خلاف کسی بھی صورت حال کا جواب دینے کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ نے کہا ہے کہ دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی حملے میں ایرانی علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حملہ شام کے بجائے ایران کے خلاف تھا۔

پاسداران انقلاب کے رہنماؤں کا قتل

یہ بات حسن نصر اللہ نے بیروت میں شام اور لبنان میں پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد رضا زاہدی، ان کے نائب محمد ہادی رحیمی اور ان کے 5 ساتھی افسران کی یادگاری تقریب کے موقع پر خطاب میں کی۔ حسن نے مزید کہا اسرائیل قاتلانہ کارروائیوں کے باوجود ایران کو مزاحمت کی حمایت سے روکنے میں ناکام رہا ہے۔

اسرائیلی سفارت خانے محفوظ نہیں رہے

ایران کے سینئر مشیر برائے عسکری امور میجر جنرل رحیم صفوی نے دمشق میں تہران کے قونصل خانے کو نشانہ بنانے پر ردعمل دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اسرائیلی سفارت خانے اب محفوظ نہیں ہیں۔ اسرائیلی حملے میں جاں بحق 7 افراد کیلئے ایک یادگاری تقریب میں صفوی نے کہا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل ’’مزاحمت کے محور‘‘ کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اب جو واقعات رونما ہو رہے ہیں وہ گزشتہ چار دہائیوں سے بالکل مختلف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے واقعات خطے کے مستقبل کی تشکیل کریں گے۔ غزہ کا تنازع عالمی سلامتی کی حرکیات کو از سر نو تشکیل دے رہا ہے۔

انتقامی منصوبہ

اس سے قبل کچھ انٹیلی جنس معلومات کے ذریعہ یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ ایران شاہد ڈرونز اور کروز میزائلوں کے ذریعے جوابی حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ امریکی حکام نے خیال پیش کیا کہ ممکنہ طور پر متعدد ممالک میں اسرائیلی قونصل خانے اور سفارت خانے ہدف ہو سکتے ہیں۔

نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے رد عمل کا وقت ابھی بھی مبہم ہے، کچھ امریکی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ ممکنہ ایرانی حملے رمضان کے اختتام سے پہلے یعنی اگلے چند دنوں کے اندر ہوسکتے ہیں۔ ابھی تک معلوم نہیں کہ آیا ایران کے میزائل اور ڈرون شام، عراق یا شاید براہ راست ایرانی سرزمین سے داغے جائیں گے۔

ایران خود جواب دیگا

یاد رہے کچھ امریکی فوجی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ایران اپنے ایجنٹوں کے بجائے خود اسرائیل پر حملہ کرے گا۔ ایرانی حمایت یافتہ گروپوں نے حماس کے حملے کے بعد کے چار مہینوں کے دوران 170 سے زائد مرتبہ شام اور عراق میں امریکی افواج پر حملہ کیا تھا۔ ایک اسرائیلی دفاعی اہلکار نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی تجزیہ کار اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایران خود حملہ کرے گا۔ جوابی حملے کے لیے وہ حزب اللہ کا استعمال نہیں کرے گا۔

درست وقت پر جواب

ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل محمد باقری نے کہا ہے کہ جوابی کارروائی مناسب وقت پر، منصوبہ بندی کے ساتھ کی جائے گی اور اس سے دشمن کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جائے گا تاکہ اسرائیل اپنے کیے پر پشیمان ہو۔ انہوں نے کہا آپریشن کے وقت اور پلان کا تعین خود ہم کریں گے۔

واضح رہے پاسداران انقلاب نے پیر کی شام شام اور لبنان میں قدس فورس کے کمانڈر زاہدی، ان کے نائب محمد ہادی رحیمی اور ان کے ساتھ موجود پانچ اہلکاروں کے ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یاد رہے جنوری 2020 کو بغداد میں قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد سے یہ تہران کے لیے سب سے تکلیف دہ دھچکا تھا۔ اس وقت سلیمانی کی ہلاکت پر ایرانی ردعمل صرف عین الاسد اڈے کی طرف کچھ میزائل داغنے تک محدود رہا تھا۔ اس اڈے پر امریکی افواج موجود تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *