May 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/farmington-realestate.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

نکارا گووا کی عالمی عدالت انصاف میں جرمنی کے خلاف درخواست پر برلن کا دو ٹوک مؤقف

من محكمة العدل الدولية - رويترز

سرائیل کی سلامتی جرمنی کی خارجہ پالیسی میں کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ بات منگل کے روز اقوام متحدہ کی سب سے بڑی عدالت کے سامنے کہی گئی ہے۔ عالمی عدالت میں جرمنی اس بات کا دفاع کر رہا ہے کہ وہ اسرائیل کو ایسا اسلحہ دے رہا ہے جو غزہ میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے استعمال کرتا ہے۔

جرمنی کی طرف سے اس کے نمائندے نے عالمی عدالت انصاف کو بتایا کہ اسرائیل کو اپنی خارجہ پالیسی میں بنیادی اہمیت کے طور پر دیکھنے کی ہماری تاریخی وجوہات ہیں۔ یہ نمائندہ دی ہیگ کی عالمی عدالت انصاف میں اپنے ملک کی طرف سے جواب داخل کر رہا تھا۔

جرمنی کے نمائندہ نے کہا نکارا گووا کی طرف سے چیزوں کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے۔ جرمنی، اسرائیل کی حمایت کرتا ہے اسلحہ کی برآمد کے حوالے سے بھی اور فوجی آلات کے حوالے سے لیکن جس طرح نکارا گووا نے پیش کیا ہے یہ درست نہیں۔

واضح رہے نکارا گووا نے عالمی عدالت انصاف سے استدعا کر رکھی ہے کہ جرمنی کو اسرائیل کے لیے اسلحہ فراہمی سے روکا جائے کیونکہ جرمنی کا اسرائیل کو اسلحہ دینا 1948 کے نسل کشی سے متعلق کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ کیونکہ جرمنی کا یہ اسلحہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

پیر کے روز نکارا گووا نے عالمی عدالت انصاف کے سامنے جرمنی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ‘اس کی طرف سے اسلحہ کی اسرائیل کو سپلائی ایک قابل رحم چیز ہے کہ ایک طرف فلسطینیوں کے خلاف اسلحہ بھیجا جا رہا ہے اور دوسری طرف فلسطینیوں کی امداد کے لیے سامان بھیجا جا رہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالمی عدالت انصاف اسلحہ سپلائی کو روکنے کے لیے جرمنی کو ہدایات جاری کرے۔

جرمنی ناکارا گووا کے اس مؤقف کو مسترد کرتا ہے۔ منگل کے روز جرمن نمائندے نے اس بارے میں تفصیلی طور پر اپنا مؤقف بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے پیش کیا۔ خیال رہے سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی جنگ میں 33207 فلسطینی قتل ہو چکے ہیں۔

یاد رہے اس سے پہلے جنوبی افریقہ کی ایک درخواست پر بین الاقوامی عدالت انصاف اسرائیل کو فلسطین کی نسل کشی اقدامات روکنے کے لیے ماہ جنوری میں حکم دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *