April 24, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/farmington-realestate.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
جو بايدن (أرشيفية من رويترز)

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ مقید روسی اپوزیشن لیڈر الیکس نوالنی کی جیل میں موت کے بعد ماسکو کے خلاف اضافی تعزیرات عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں بائیڈن نے رپورٹروں کو بتایا کہ ہم نے پہلے ہی ان پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں لیکن امریکہ مزید پابندیاں لگانا چاہتا ہے۔ وہ گزشتہ ہفتے پہلے ہی براہ راست روسی صدر ولادی میر پوٹن اور ان کے ساتھیوں کو نوالنی کی موت کا ذمہ دار ٹھیرا چکے ہیں۔

نوالنی کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کہ بائیڈن یوکرین، اسرائیل اور تائیوان کے لیے 95 ارب ڈالر انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹینس کا پیکیج کانگریس سے منظور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کی متعدد ریپبلیکن قانون ساز مخالفت کررہے ہیں۔

دو جماعتی حمایت سے ڈیمو کریٹک کنٹرول والے سینیٹ نے اس پیکیج کی منظوری دے دی ہے۔ لیکن ایوان نمائندگان میں معمولی اکثریت والی ریپبلیکن پارٹی کے اسپیکر مائیک جانسن نے بل کو ووٹ کے لیے فلور پر جانے سے روک لیا ہے، جس کہ جزوی وجہ یہ ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نئی امداد کے خلاف ہیں۔

جانسن اس مسئلے پر بائیڈن سے ملاقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ صدر نے جو یوکرین کے لیے مزید امداد کے زبردست حامی ہیں، پیر کے روز کہا کہ وہ ایوان کے اسپیکر سے ملنے کے لیے تیار ہیں۔

ساتھ ہی مسٹر بائیڈن نے ریپبلیکن قانون سازوں پر نکتہ چینی کی کہ وہ یوکرین کی جانب سے روسی حملے کے خلاف اپنے دفاع کی دو سال سے جاری لڑائی میں فنڈنگ جاری نہیں رہنے دینا چاہتے۔

بائیڈن نے کہا جس طرح وہ روسی خطرے کو نظر انداز کر رہے ہیں، جس طرح وہ نیٹو سے دور ہٹ رہے ہیں جس طرح وہ ہماری ذمہ داریاں پوری کرنے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ میں نے اس طرح کی چیز پہلے کبھی نہیں دیکھی۔

یوکرین پر روس کے حملے کو دو سال ہو چکے ہیں۔ جاپان نے امداد کی مد میں یوکرین کو دس ارب ڈالر سے زیادہ دینے کے وعدے کیے ہیں۔ اس میں سے زیادہ تر امداد مالیاتی اور انسانی ہمدردی پر مبنی ہے۔

ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے گزشتہ ہفتے ایک رپورٹ میں تخمینہ لگایا ہے کہ یوکرین کو آئندہ عشرے میں تعمیر کی کوششوں میں 486 ارب ڈالر کی ضرورت ہو گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *