April 13, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/farmington-realestate.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

افغانستان میں طالبان علماء نے شریعت کی سخت ترین تشریحات میں سے ایک کا استعمال کیا

Afghanistan

ئے وقوعہ پر موجود اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق طالبان حکام نے جمعرات کو مشرقی افغانستان کے ایک فٹبال اسٹیڈیم میں قتل کے دو مجرمان کو سرعام پھانسی دے دی۔

سپریم کورٹ کے اہلکار عتیق اللہ درویش نے طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخندزادہ کا دستخط شدہ موت کا وارنٹ بلند آواز سے پڑھا جس کے بعد دونوں افراد کو غزنی شہر میں پشت پر متعدد گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

درویش نے کہا، “یہ دونوں افراد قتل کے جرم میں سزا یافتہ تھے۔ ملک کی عدالتوں میں دو سال تک مقدمہ چلنے کے بعد حکم نامے پر دستخط کیے گئے ہیں۔”

سزائے موت کا مشاہدہ کرنے کے لیے اسٹیڈیم میں ہزاروں لوگ جمع تھے۔

سزا یافتہ مردوں نے جن افراد کو قتل کیا، ان کے اہلِ خانہ موجود تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے اور ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مجرم کو آخری لمحات میں مہلت دینا چاہتے تھے لیکن انہوں نے دونوں مجرمان کے لیے انکار کر دیا۔

طالبان حکومت کے اسلامی قانون کے نفاذ کے مطابق رشتہ داروں کو خود مجرمان کو سزائے موت دینے کی پیشکش کی گئی لیکن ان کے انکار کرنے پر سکیورٹی فورسز کے ارکان نے دونوں افراد کو قتل کر دیا۔

سپریم کورٹ کے ایک بیان کے مطابق سزائے موت پانے والوں کی شناخت سید جمال اور گل خان کے نام سے ہوئی اور دونوں بالترتیب ستمبر 2017 اور جنوری 2022 میں چاقو سے قتل کے مجرم قرار پائے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اخندزادہ نے ان کے مقدمات کی “غیر معمولی تحقیقات” کی تھیں۔

کابل میں طالبان انتظامیہ کو 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کسی دوسری حکومت نے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا اور انہوں نے اسلامی قانون کی اپنی ہی سخت تشریح نافذ کی ہے۔

اخندزادہ نے 2022 میں ججوں کو اسلامی قانون کے تمام پہلو مکمل طور پر نافذ کرنے کا حکم دیا – بشمول “آنکھ کے بدلے آنکھ” کی سزائیں جنہیں “قصاص” کہا جاتا ہے۔

اسلامی قانون یا شریعت دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک ضابطۂ حیات کے طور پر کام کرتی ہے جو شائستگی، مالیات اور جرائم جیسے مسائل پر رہنمائی پیش کرتی ہے۔

البتہ مقامی رسم و رواج، ثقافت اور مذہبی مکاتبِ فکر کے مطابق تشریحات مختلف ہوتی ہیں۔

افغانستان میں طالبان علماء نے ضابطے کی سخت ترین تشریحات میں سے ایک کا استعمال کیا ہے بشمول سزائے موت اور جسمانی سزائیں جو زیادہ تر جدید مسلم ریاستیں بہت کم استعمال کرتی ہیں۔

گذشتہ غیر ملکی حمایت یافتہ حکومت کے تحت ایک نئے عدالتی نظام کی تعمیر پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے گئے جس میں قابل استغاثہ، دفاعی وکلاء اور ججوں کے ساتھ اسلامی اور سیکولر قانون کا امتزاج تھا۔

تاہم بہت سے افغانوں نے بدعنوانی، رشوت ستانی اور انصاف کی فراہمی میں سست روی کی شکایت کی۔

1996 سے 2001 تک طالبان کے پہلے دورِ حکومت میں سرِعام پھانسی عام تھی۔

خیال ہے کہ جمعرات کی سزائے موت طالبان حکام کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے تیسری اور چوتھی سزا ہے۔

پہلے دو کو بھی قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

چوری، زنا اور شراب نوشی سمیت دیگر جرائم کے لیے باقاعدہ سرعام کوڑے مارے جاتے رہے ہیں۔

آخری اطلاع شدہ پھانسی جون 2023 میں دی گئی تھی جب ایک سزا یافتہ قاتل کو صوبہ لغمان کی ایک مسجد کے میدان میں تقریباً 2000 لوگوں کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے مشن یو این اے ایم اے نے جمعرات کو بعد ازاں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں سزائے موت کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے حکام پر زور دیا کہ “سزائے موت کے خاتمے کی جانب ایک قدم کے طور پر اس کے استعمال پر فوری پابندی لگا دی جائے۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *