April 20, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/farmington-realestate.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
اٹلی کا گاؤں پٹریکا جہاں ایک یورو میں مکان پیش کیا گیا

گزشتہ چند سالوں کے دوران اٹلی میں ایک یورو کے مکانات کی فروخت نے بہت زیادہ توجہ حاصل کی ہے۔ ملک کے کچھ خالی قصبوں میں درجنوں لاوارث جائیدادوں کو آباد کردیا گیا ہے۔ اس وقت جب سسلی میں مسومیلی اور کیمپانیا میں زونگولی جیسے شہروں میں اطالوی غیر ملکیوں کو بہت سی ترک شدہ رہائش گاہیں فروخت کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ کچھ دوسرے شہر لاوارث مکانات فروخت کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

پیٹریکا دور دراز کا علاقہ

سی این این کے مطابق ان شہروں میں ایک پیٹریکا ہے، یہ روم کے جنوب میں ایک دور دراز قرون وسطی کا گاؤں ہے۔ یہاں صرف 3,000 باشندے مقیم ہیں۔ یہاں بیسویں صدی کے اوائل میں 40 سے زیادہ جائیدادیں چھوڑ دی گئی تھیں۔ پیٹریکا ایک چٹانی سطح مرتفع پر واقع ہے جو وسطی اٹلی میں ساکو وادی کا نظارہ بھی پیش کرتا ہے۔ یہ ایک مثالی علاقہ ہے۔

تاہم ماضی میں مقامی لوگوں کے لیے وہاں کی زندگی آسان نہیں تھی۔ بہت سے لوگ روشن مستقبل کی تلاش میں کہیں اور چلے گئے اور کئی دہائیوں تک اپنے گھر خالی چھوڑ گئے۔ نئی زندگی کا سانس لینے کی کوشش میں شہر کے میئر لوسیو فیورڈالیسو دوسرے اطالوی دیہاتوں کی کامیابی کی تقلید کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان دیہات میں خالی گھر صرف ایک یورو یا ایک ڈالر میں پیش کئے گئے۔ تاہم میئر لوسیو فیورڈالیسو پٹریکا میں صرف دو گھر بیچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

زلزلوں اور دیگر قدرتی آفات سے لاوارث قصبوں کے مقامی حکام کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے مالکان سے اجازت حاصل کیے بغیر ترک شدہ مکانات کو فروخت کے لیے رکھ دیں لیکن پیٹریکا اور اس جیسے دیگر قصبوں کے لیے ایسا نہیں ہے۔

پیچیدہ عمل

اس تناظر میں میئر فیورڈالیسو نے سی این این کو بتایا کہ ہمیں اپنے پرانے گھروں کو ٹھکانے لگانے کے لیے سب سے پہلے مالکان یا ان کے وارثوں کو ڈھونڈنا ہوتا ہے تب ہی ہم ان کی منظوری سے ان جائیدادوں کو فروخت کے لیے پیش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا یہی وہ چیز ہے جو اس عمل کو بہت پیچیدہ بنا دیتی ہے۔

جو چیز اس کے کام کو مشکل بناتی ہے وہ یہ ہے کہ بہت سے متروکہ مکانات ایک سے زیادہ لوگوں کی ملکیت ہیں جن میں سے کچھ کا آپس میں اختلاف ہے۔ تمام مالکان فروخت کے عمل پر متفق نہیں ہوتے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ مالکان کے درمیان تعلقات ختم ہو گئے ہوتے ہیں اور ان میں سے کچھ بیرون ملک مقیم ہوتے ہیں۔

ٹیکس کے خوف سے احتیاط

شہر اپنی ایک یورو سکیم کے حصے کے طور پر صرف دو ویران مکانات آسانی سے فروخت کرنے کے قابل ہوا۔ یہ دونوں مکان دو مقامی رہائشیوں کی ملکیت تھے اس لیے چوتھے کزن یا پڑپوتے سے رابطہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

اصل مالکان جو کئی سالوں سے جگہوں پر مقیم ہیں وہ مقامی حکام کے سامنے اپنے آپ کو ظاہر کرنے سے بھی ہوشیار رہتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی جائیداد پر بیک ٹیکس اور فضلے کو ٹھکانے لگانے کی فیس جو 2,500 یورو تک پہنچ سکتی ہے دینا پڑ سکتی ہے۔ بعض کو یوٹیلٹی بلز ادا کرنے کے مطالبے کا خوف بھی رہتا ہے۔

بہت نظر انداز مکانات

بعض صورتوں میں کچھ لاوارث مکانات کو اس قدر نظر انداز کیا گیا کہ جب انہیں فروخت کے لیے پیش کیا گیا تو انھوں نے کوئی خریدار نہیں کھینچا کیونکہ انھیں دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت تھی۔ میئر فیورڈالیسو نے انکشاف کیا کہ غیر ملکیوں کی ایک چھوٹی سی تعدادخاص طور پر امریکہ اور یورپ سے ایک یورو کے مکانات کو دیکھنے کے لیے آئے تھے لیکن بدقسمتی سے ہمارے پاس انہیں پیش کرنے کے لیے کچھ اچھے مکانات نہیں تھے۔

سٹی کونسل کے فیصلے

واضح رہے سٹی کونسل نے حال ہی میں کچھ پرانی رہائش گاہوں کے بیرونی حصوں کی تزئین و آرائش کے لیے مالی امداد فراہم کی ہے جس سے بہت سے مقامی باشندوں کو اپنے پرانے خاندانی گھروں کو مکمل طور پر نئے سرے سے ڈیزائن کرنے اور کئی دہائیوں کی نظر اندازی کے بعد استعمال میں لانے پر آمادہ کیا گیا۔

قصبے کے اندر جانے کے لیے تیار گھر جن میں 20,000 یورو سے شروع ہونے والی دو بیڈروم پراپرٹیز شامل ہیں آنیوالوں کے لیے زیادہ پرکشش ثابت ہوئے ہیں۔ جب غیر ملکی کئی دہائیوں کی نظر اندازی کے بعد گھروں کی خراب حالت کو دیکھتے ہیں تو وہ ایسے ریڈی میڈ اپارٹمنٹس کو منتخب کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جو پہلے ہی نئے سرے سے ڈیزائن کیے جا چکے ہیں یا جنہیں صرف معمولی مرمت کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *