April 13, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/farmington-realestate.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
German Foreign Minister Annalena Baerbock speaks during a press conference on a German UNIFIL ship inside Beirut port, Lebanon January 10, 2024. (Reuters)

جرمنی کی وزیر خارجہ اینا لینا بئیر بوک اتوار کو مشرق وسطیٰ کے دورے پر آئیں گی۔ سات اکتوبر سے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران بئیر بوک کا یہ ساتواں دورہ ہو گا۔ اس امر کا اعلان وزیر خارجہ نے جمعرات کے روز جرمن پارلیمنٹ میں اپنی گفتگو کے دوران کیا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کے اس دورے کا مقصد بھی یہی ہے کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو متحرک رکھا جائے۔ جیسا کہ اس وقت بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ یہ بہت مشکل ٹاسک ہے اور اس بارے میں کم امید ہے۔

واضح رہے امریکہ سے لے کر برطانیہ ، فرانس ، جرمنی اور یورپی دنیا کے کئی دیگر اعلیٰ سفارتی ذمہ دار اس جنگ کے بارے میں خطے کے ممالک میں بار بار آچکے ہیں۔ لیکن ان کی تمام تر کوششوں کے نتیجے میں جنگ چھٹے ماہ تک پہنچنے کے باوجود ختم نہیں ہو سکی۔ تاہم ان ملکوں کی حکومتوں نے بالعموم اس جنگ میں اسرائیل کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر کھڑا رہنے کا مسلسل اظہار کیا ہے۔

جرمن وزیر خارجہ کا یہ دورہ مشرق وسطیٰ کا تازہ اعلان بظاہر ان کی اپے ملک کی کاوش اور کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے لیکن امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے چھٹے دورے کے فوری بعد شروع ہونے سے ایک تاثر یہ بھی بنتا ہے کہ یہ ایک فالو اپ دورہ ہو سکتا ہے۔

جرمن وزیر خارجہ اینا لینا کے اس دورے کے پس منظر میں فلسطینی حکام اور عرب وزرائے خارجہ کی جمعرات کے روز قاہرہ میں ایک باہمی ملاقات بھی بنی ہے۔ جس میں انہوں نے جنگ بندی کے لیے جاری کوششوں اور غزہ میں قحط کی سی صورتحال پیدا ہوجانے کے ماحول میں باہم مشاورت کی ہے۔

خیال رہے چھ ماہ کی بدترین جنگ کے دوران جب غزہ میں 32 ہزار سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ جن میں دو تہائی کی تعداد میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے اطلاع دی ہے کہ ان کا ملک غزہ میں جنگ بندی کے لیے ایک قرارداد تیار کر کے اقوام متحدہ میں زیر بحث لانے کی تیاری کر رہا ہے۔

امریکہ کی طرف سے اس قرارداد تیاری کو ایک بڑی پیش رفت کہا جا سکتا ہے کہ ابھی کچھ ہی ہفتے پہلے امریکہ نے سلامتی کونسل میں جنگ بندی کے لیے پیش کردہ قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔ کہا گیا ہے کہ اس قرارداد کو اقوام متحدہ کی طرف سے قحط کے انتباہات کے باعث پیش کیا جا رہا ہے۔ تاکہ اسرائیلی فوج کے مسلسل زیر محاصرہ غزہ میں جنگ کے لیے کچھ وقفہ ہو سکے۔

جرمن وزیر خارجہ نے اپنے ساتویں دورے سے پہلے یہ واضح کیا ہے کہ اسرائیل کی سلامتی اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ تاہم اسرائیل اور اس کی فوج جس طرح اپنا دفاع کر رہی ہے یہ قدرے فرق ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنی دفاعی کوششوں کو بین الاقوامی فریم ورک کے دائرے میں رکھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *