April 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/farmington-realestate.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
White House

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی حکومت ایک اندرونی نگران ادارے کی رپورٹ کو سنجیدگی سے لیتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سنگاپور میں تعینات امریکی سفیر نے اپنے عملے کو دھمکی دی اور سفری اخراجات کے تقریباً 48,000 ڈالر بروقت یا مناسب دستاویزات کے ساتھ جمع کرانے میں ناکام رہے۔

اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے آفس آف انسپکٹر جنرل نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سنگاپور میں تعینات سفیر جوناتھن کپلن کے کچھ وزارتوں کے ساتھ تعلقات خراب تھے اور وہ اکثر مسائل سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

انسپکٹر جنرل کے دفتر نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سفیر سالمیت، اسٹریٹجک منصوبہ بندی، تعاون یا مواصلات کا بہتر نمونہ نہیں پیش کرسکے۔ انہوں نے محکمہ خارجہ پر زور دیا کہ اپنی قیادت اور انتظام کا جائزہ لیں اور اگر مناسب ہو تو اصلاحی اقدام کریں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بہت سے ملازمین نے اپنے خوف اور یہاں تک کہ سفیر کی طرف سے انتقامی کارروائی کی براہ راست دھمکیوں کے بارے میں بات کی۔

رپورٹ میں سفیر کے نقطہ نظر کی طرف اشارہ کیا گیا کہ جب انہوں نے عہدہ سنبھالا تو ایک مشکل عبوری دور تھا لیکن انہیں یقین تھا کہ انہوں نے اپنے ملازمین کا اعتماد حاصل کر لیا ہے۔مگر ایسا ہرگز نہیں تھا۔

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے صحافیوں کو بتایا کہ “صدر ہمیشہ چاہتے ہیں کہ ان کے نمائندے لوگوں سے عزت اور احترام کے ساتھ پیش آئیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ مطمئن ہیں کہ محکمہ خارجہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے”۔

رپورٹ میں پتا چلا کہ کپلن نے محکمہ خارجہ کی بہت سی سفری پالیسیوں کی پیروی نہیں کی، امریکی حکومت سے معاہدہ شدہ ٹریول ایجنسی کا استعمال نہیں کیا اور امریکی ایئر لائنز کے استعمال کے لیے ضروری امریکی قانون کی تعمیل کرنے میں ناکام رہے۔

انہوں نے دسمبر 2021 تک کے بقایا سفری اخراجات میں تقریباً 48,000 ہزار ڈالر کی ادائیگی کے لیےتفصیلات جمع نہیں کرائی گئیں یا سفری دعوے کی ادائیگی کے لیے دستاویزات موجود نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *