April 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/farmington-realestate.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
FILE PHOTO: Protesters hold a Palestinian flag as they gather outside the International Court of Justice (ICJ) as judges rule on emergency measures against Israel following accusations by South Africa that the Israeli military operation in Gaza is a state-led genocide, in The Hague, Netherlands, January 26, 2024. REUTERS/Piroschka van de Wouw/File Photo

قوامِ متحدہ کے سینئر ترین جج نکاراگوا کی طرف سے جرمنی پر اسرائیل کی غزہ میں “نسل کشی” میں سہولت کاری کے الزام کی درخواستوں پر سماعت اگلے ماہ سے ہو گی۔

دو ہفتے قبل نکاراگوا نے بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں جرمنی کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا جس میں کہا گیا کہ برلن غزہ میں “نسل کشی کے ارتکاب کو سہولت فراہم کر رہا ہے اور نسل کشی کے ارتکاب کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے میں اپنی ذمہ داری میں ناکام رہا۔”

اس میں برلن کی طرف سے اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی اونروا کی فنڈنگ کی معطلی بھی شامل تھی۔

ہیگ میں قائم آئی سی جے نے کہا کہ وہ 8 اور 9 اپریل کو سماعت کرے گا تاکہ دونوں ممالک درخواستیں جمع کروا دیں۔

آئی سی جے نے ایک بیان میں کہا، “سماعتیں نکاراگوا کی درخواست میں موجود عارضی اقدامات کے اشارے کی درخواست کے لیے وقف ہوں گی۔”

مناگوا نے عدالت سے کہا ہے کہ وہ جرمنی کے خلاف فوری عبوری مؤقف اختیار کرے اس سے پہلے کہ ججوں کی طرف سے اس کیس کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے۔

مقدمے کا اندراج آئی سی جے کے 26 جنوری کے اس بیان کے بعد ہوا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے سب کچھ کرنا چاہیے اور امداد کی فراہمی کے لیے “فوری” اقدامات کرنا چاہیے۔

یہ عبوری حکم اس وقت دیا گیا جب عدالت دسمبر میں جنوبی افریقہ کی طرف سے دائر کردہ مقدمے کا مکمل جائزہ لے رہی ہے جس میں الزام لگایا گیا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی میں مصروف تھا۔

اسرائیل نے جنوبی افریقہ کے مقدمے کو “صریحاً مسخ شدہ کہانی” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

آئی سی جے کے فیصلے قانونی طور پر پابند تو ہوتے ہیں لیکن عدالت کے پاس ان کے نفاذ اور عمل درآمد کا کوئی طریقۂ کار نہیں ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (اونروا) کے عملے نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے میں حصہ لیا تھا، اسرائیل کی جانب سے اس الزام نے کئی ممالک — بشمول جرمنی، برطانیہ، جاپان اور امریکہ — کو ایجنسی کی مالی امداد معطل کرنے پر اکسایا۔

تاہم کینیڈا اور سویڈن نے کہا کہ وہ اونروا کے لیے امداد دوبارہ شروع کریں گے اور اسپین نے اضافی 20 ملین یورو دینے کا وعدہ کیا ہے۔

جمعرات کو جنگ سے تباہ حال غزہ میں مزید امداد پہنچانے کی کوششیں تیز ہوگئیں کیونکہ ہسپانوی امدادی بحری جہاز اوپن آرمز منگل کو قبرص سے روانہ ہونے کے بعد اسرائیل کے ساحل کے قریب پہنچ گیا۔

علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں بمباری اور زمینی کارروائیوں کی ایک بے رحمانہ مہم چلا رکھی ہے جس میں کم از کم 31,490 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *